Home / اسلام / طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟؟؟

طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟؟؟

طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟؟؟

سیدنا عمر رضی اللہ کا 3 طلاق کا فیصلہ سیاسی تعزیری سزا” اور وقتی تھا سیدنا عمر رضی اللہ ایسے آدمی کو کوڑے لگواتے اور تین طلاق سزا” نافذ کردیتے تھے بعد میں سیدنا عمر نے اپنے فیصلہ سے رجوع کرلیا اور ندامت کا اظہار بھی کیا اگر 3 طلاق کا سیدنا عمر کا فیصلہ کو برقرار رکھو گے تو قران کی ایات یا تو منسوخ کرنی پڑھیں گی یا ان کا انکار نعوذ بللہ ثمہ نعوذ ؟؟؟ قران و احادیث قیامت تک کے لئے ھے سیدنا عمر کا فیصلہ وقتی تھا نہ کہ شرعیت کو بدلنے کا عزم

طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟؟؟
الله تعالیٰ فرماتا ہے :

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّايُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۙ فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَاتَعْتَدُوْھَا ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ

طلاق(رجعی) دو مرتبہ ہے پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا پھر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردینا ہے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ بھی واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے پس اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے ‘ تو ان دونوں پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیہ میں دے یہ اللہ کی حدود ہیں ‘ پس ان سے تجاوز مت کرو اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں
(البقرہ -229)

دور جاہلیت میں عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ مرد کو اپنی بیوی کو لاتعداد طلاقیں دینے کا حق حاصل تھا۔ ایک دفعہ اگر مرد بگڑ بیٹھتا، اور اپنی بیوی کو تنگ اور پریشان کرنے پر تل جاتا تو اس کی صورت یہ تھی کہ طلاق دی اور عدت کے اندر رجوع کرلیا پھر طلاق دی پھر رجوع کرلیا اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا، نہ وہ عورت کو اچھی طرح اپنے پاس رکھتا اور نہ ہی اسے آزاد کرتا کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے۔

چنانچہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک مرد اپنی عورت کو جتنی بھی طلاقیں دینا چاہتا، دیئے جاتا اور عدت کے اندر رجوع کرلیتا۔ اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے زیادہ طلاقیں دیتا جائے۔ یہاں تک کہ ایک (انصاریٰ) مرد نے اپنی بیوی سے کہا : اللہ کی قسم! میں نہ تجھ کو طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو سکے اور نہ ہی تجھے بساؤں گا۔” اس عورت نے پوچھا : وہ کیسے؟ وہ کہنے لگا، میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہوگی تو رجوع کرلوں گا۔” یہ جواب سن کر وہ عورت حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔ حضرت عائشہ (رض) خاموش رہیں تاآنکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ حضرت عائشہ (رض) نے آپ کو یہ ماجرا سنایا تو آپ بھی خاموش رہے۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی

( اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّايُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۙ فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَاتَعْتَدُوْھَا ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ٢٢٩۔) 2۔ البقرة :229) (ترمذی۔ ابو اب الطلاق٫ اللعان

اس آیت سے اسی معاشرتی برائی کا سدباب کیا گیا اور مرد کے لیے صرف دو بار طلاق دینے اور اس کے رجوع کرنے کا حق رہنے دیا گیا۔
طلاق دینے کا مسنون اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرد حالت طہر میں عورت کو ایک طلاق دے اور پوری عدت گزر جانے دے۔ فائدہ یہ ہے کہ میاں بیوی اگرعدت کے اندر صلح کرنا چاہیں تو کر لیں لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر عدت گزر جانے کے بعد بھی آپس میں مل بیٹھنے پر رضامند ہوں تو تجدید نکاح سے یہ صورت ممکن ہے۔ یہ تو ہے سنّت طریقہ کار –

لیکن ایک(بدعتی ) طریقہ جو آج کل بھی کافی معروف ہے وہ ہے ایک ہی بار تین طلاقیں دینا -یعنی کوئی کہے کہ میں نے تجھے طلاق دی ،طلاق دی ،طلاق دی –
یہ طریقہ خلاف سنّت ہے – یعنی بدعت ہے -اگرچہ بعض فرقوں کے مطابق اس صورت میں بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ مگر سنت کی رو سے یہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔

(١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکر (رض) کے زمانہ میں اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک یک بارگی تین طلاق کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ پھر عمر نے کہا : لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلدیب کرنا شروع کردیا جس میں ان کے لیے مہلت اور نرمی تھی تو اب ہم کیوں نہ ان پر تین طلاقیں ہی نافذ کردیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ایسا قانون نافذ کردیا۔ (مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث)

About Admmin

Check Also

حضرت آدمؑ، عیسیؑ وحواؑ کی پیدائش کس سائنسی اصول کے تحت ہوئی؟

  ایک ملحد نے ایک پوسٹ کی ہے جس پر ہمارے کچھ ردِ الحاد کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *